ENSURE YOUR SELECTION AT ISSB TEST


Be Clear About ISSB Test Just in One Hour

آئی ایس ایس بی ٹیسٹ ایک ایسا ٹیسٹ ہے جو دوسرے تمام مروجہ امتحانات سے مکمل طور پر ہٹ کر ہے جس کی وجہ سےبہت سے قابل اور ذہین امیدوار ناکام ہوجاتے ہیں۰ باقی تمام امتحانات میں عام طور پر تعلیمی معیار پرکھا جاتا ہے مگر آئی ایس ایس بی ٹیسٹ میں دیکھا گیا ہے کہ پچا سی پرسنٹ نمبر لینے والا ناکام ہوجاتا ہے اور پچاس یا ساٹھ پرسنٹ نمبر لینے والا کامیاب ہو جاتا ہے۰ اس سے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کامیابی کا راز کیاہے؟ جب زمانہ طالبعلمی میں امتحان دینا ہو تو کتاب معلوم ہوتی ہے، سلیبس متعین ہوتاہے اور یہاں تک کہ کس کس قسم کےسوال آیئں گے؛ یعنی پیپر پیٹرن بھی معلوم ہوتا ہے۰ ان حالات میں امتحان کی تیاری آسان ہو جاتی ہے اورامتحان دینے والے کو معلوم ہوتا ہے کہ اُس نے کیا تیار کرناہے، کس چیز پرزیادہ زور لگانا ہے اور کس پر کم، کس حصہ کو چھوڑ سکتے ہیں اور کونسا بہت ضروری ہے، کس ٹیسٹ کا وزن زیادہ ہےاور کس میں ذرا ریلیکس کر سکتے ہیں۰
اَب ذرا آئی ایس ایس بی ٹیسٹ کا جائزہ لیں تو پتا چلے گا کہ نا سلیبس، نا کتاب اور نا پیپر پیٹرن تو کیا کسی تیاری کی ضرورت نہیں ہے؟اوپر سےظلم یہ کہ کہیں سے بھی آئی ایس ایس بی ٹیسٹ کی تیاری کرنے سے منع کر دیا گیا ہے۰ جو فارم آپ ابتدای سلیکشن کے بعد مکمل کرکےواپس جمع کراتے ہیں،اُس کےپہلے صفحہ کے سب سے اوپر والے حصہ پر لال رنگ کے ساتھ انگریزی کے ارد گرد حاشیہ لگاکر لکھا ہوتا ہے ٌکسی اکیڈمی سے آئی ایس ایس بی ٹیسٹ کی کسی بھی قسم کی تیاری کرنا سخت منع ہے اگر کسی امیدوار کے بارے میں معلوم ہو گیا کہ اس نے کسی اکیڈمی سے تیاری کی ہے تو اُسے سلیکٹ نہیں کیا جاۓ گاٌ اب اتنی واضع وارننگ کے باوجود جو لال رنگ میں پہلے صفحہ کے ٹاپ پر حاشیہ لگا کر موٹے الفاظ کے ساتھ واضع کی گئ ہے، امیدوار نظر انداز کر دیں؟ اگر دورانِ انٹرویو آپ سے پوچھ لیا گیا کہ آپ نے کسی اکیڈمی سے تیاری کی ہے تو آپ کے جواب دینے سے پہلے ہی آپ کے چہرے کے تاثرات سے اُ ن کو معلوم ہوجاۓگا کہ آپ کے اندر کیا کش مکش جاری ہے۰ اب اگر آپ نے اکیڈمی میں تیاری کرنے کے با وجود کہ دیا کہ ٌ نو سرٌ تو گویا آپ نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماردی اور کیۓ کراۓ پر پانی پھیر دیا۰ اگر آپ نے سچ بول دیاتو ہو سکتا ہےکہ اللہ آپ کے سچ میں برکت ڈال دے۰ ویسے اُن کو یہ سوال پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ اکیڈمی سے تیاری کرنے والے کی مخصوص عادات سے انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ امیدوار ہماری واضع وارننگ کے باوجود اکیڈمی یاترا کر آیا ہے۰اَب اگر امیدوار بہت ہی آوٹ سٹینڈنگ ہے اور اس نے سچ بھی بتا دیا ہے تو آئی ایس ایس بی والے شایٔد امیدوار کی اس غلطی کو نظر انداز کر دیں، مگر وہ اس حقیقت کو اس کے کاغذات میں ریکارڈ بھی کریں گے اور میرٹ میں بھی نیچے رکھیں گے جس کی وجہ سے ہو سکتا ہے وہ امیدوار فائنل میرٹ نہ بنا سکے
آئی ایس ایس بی میں ہر اُمیدوار کے بارہ مختلف قسم کے ٹیسٹ ہوتے ہیں۰ انکے اگر ذیلی حصوں کو بھی شمار کیا جاۓ تو ان کی تعداد اٹھارہ ہو جاتی ہے۰ اکثر کچھ امیدواروں کے ری ٹیسٹ بھی لیئے جاتے ہیں۰ اِن ٹیسٹوں کا دورانیہ چار روز ہے۰ چھ سے آٹھ امیدواروں کا ایک گروپ بنایا جاتا ہے اور ہر گروپ کا ٹیسٹ لینے کے لیئے تین سینیئر اور تجربہ کار آفسرز کی ٹیم مقرر کی جاتی ہے جو ہر امیدوار کو چار دن میں خوب چھان پھٹک لیتی ہے اور جو سویٔ کے ناکے سے گزر جاتا ہے کامیاب ہو جاتا ہے۰
آئی ایس ایس بی میں کامیابی کاتناسب بہت ہی کم ہے۰ عموماٌ ایک سو امیدواروں میں سے چھ سے دس امیدوار کامیاب ہوتے ہیں اور جب اس سے زیادہ کامیاب ہو جایئں تو کہا جاتا ہے لُٹ پڑ گئ ہے۰مگر ایک اچھی بات یہ ہے کہ اگر مکمل گروپ بھی میرٹ پر آجاۓ تو وہ سلیکٹ ہو جایئں گے اور فائنل سلیکشن فائنل میرٹ پر ہوگی۰ اس کتاب کا مصنف آج سے 35 سال قبل آئی ایس ایس بی میں گیا تو 117 میں سے صرف چھ سلیکٹ ہوۓ، جب اس کا واحد بیٹا گیا تو 135 میں سے پندرہ سلیکٹ ہوۓ اور جب واحد بیٹی آئی ایس ایس بی کے لیٔے گئ تو ساٹھ میں سے تیس لڑکیاں سلیکٹ ہویئں (باپ، بیٹا اور بیٹی میں سے اسلام آباد میں ہونے کے باوجود کویٔ ایک بھی اکیڈمی میں نہیں گیامگر اللہ نے سب کو کامیابی سے نوازا) ۰یہ سب لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ اَپنی ذات پر اور اللہ پر بھروسہ کریں۰ایک بات جو میں فوج کا سینیٔر ریٹائرڈ آفسر ہونے کی حثیت اور ۳۵ سالہ تجربہ کی بنیاد پر پورے وثوق سے کہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ آئی ایس ایس بی میں سفارش کا عمل دخل بلکل نہیں ہے۰ میں نے اپنے سامنے دیہات کے سادہ اور کم نمبروں والے لڑکوں کو سلیکٹ ہوتے اور سینٔیر فوجی افسران کے بچوں کو ریجکٹ ہوتے دیکھا ہے۰ میں آئی ایس ایس والوں کا کوئ نماِندہ نہیں ہوں اور یہ صرف اسلئے لکھ رہا ہوں کہ اس کو پڑھنے والا امیدوار مکمل اعتماد کے ساتھ آئی ایس ایس بی جاۓ اور اُس کے دل میں کوئ شبھہات نہ ہوں
ہر گروپ کے ساتھ جو تین سلیکٹرز ہوتے ہیں اُن میں سے ہر ایک کو ویٹو کا اختیار ہوتا ہے۰ یعنی اگر دو نے ایک امیدوار کو سلیکٹ کرلیا مگر تیسرے نے ریجکٹ کر دیا تو امیدوار ریجکٹ ہو جاۓ گا۰ ان سلیکٹرز میں سب سے سینیٔر ڈپٹی پریزیڈنٹ جو لیفٹیننٹ کرنل یا مساوی عہدے کا آفسر ہوتاہے جو امیدوار کا انٹر ویو کرتا ہے۰ سائکالوجسٹ میجر ہوتا ہے یہ تمام پیپر ورک چیک کرتا ہے اور امیدوار کا انٹر ویو بھی کرتا ہے۰ تیسرا سلیکٹر میجر کے عہدے کا جی ٹی اُو ہوتا ہے جو تمام آوٹ ڈورز کا انچارج ہوتا ہے۰ تینوں سلیکٹرز کو ایک دوسرے کا علم آخری روز تمام ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد ہوتا ہے۰ نا وہ ایک دوسرے کے کام میں مداخلت کرتے ہیں اور نا ہی قانونی طور پر کر سکتے ہیں۰ہر سلیکٹر اپنی راۓ خود متعین کرتا ہے۰ تمام سلیکٹرزکی یہ خوبی ہوتی ہے کہ اُن میں اُڑتی چڑیا کے پر گننے کی صلاحیت ہوتی ہے اور اگر چاہے بھی تو کچھ چھپا نہیں پاتا
آئی ایس ایس بی ٹیسٹ کا پاس کر لینا عام سے امیدوار کو بہت ہی خاص بنا دیتا ہے۰بندہ زیرو سے ہیرو ہو جاتاہے۰ کیوں نا ہو یہ ایک نوجوان کے لیۓ لائف ٹرننگ مومنٹ ہوتی ہے۰ یاد رکھیں زندگی میں لائف ٹرننگ مومنٹ روز روز نہیں آتی۰ اَگر خوش قسمتی سے اللہ ایسا موقع دے تو کامیابی حاصل کرنے کے لئے تن، من، دھن کی بازی لگا دیں۰ فو راٌ ذہن میں سوال آتا ہےکہ تن، من، دھن کی بازی کیسے لگائیں؟ اکیڈمی کا راستہ قانون نے بند کردیا ہے، نا کوئ سلیبس نا کوئ پیپر پیٹرن اور نا کوئ بتانے والا۰ بازار میں جو موٹی موٹی کتابیں ملتی ہیں ان کو ہفتوں پڑھنے کے بعد بھی یہ نہیں معلوم ہو پاتا کہ کرنا کیا ہے؟ جو فوجی لوگوں کےبچے ہوتے ہیں اُن پھر بھی کہیں ناکہیں سے رہنمائ مل جاتی ہے۰ عام امیدوار کہاں جائیں؟
اِنہی چیزون کو مدِ نظر رکھ کر ایک ٹو دی پوآئنٹ مختصر کتاب آئی ایس ایس بی ای بُک کے نام سے لکھی گئی ہے جو 2010 سے آن لائین دستیاب ہے۰ جونہی کوئی تبدیلی آئی ایس ایس بی میں رونما ہوتی ہے اُسی وقت کتاب میں شامل کردی جاتی ہے۰ وقت کے ساتھ ساتھ کتاب مکمل طور پر کامل ہو چکی ہے۰ جو یہ کتاب پڑھ لیتا ہے اُسے آئی ایس ایس بی کے بارے ہر سوال کا جواب مل جاتا ہے۰اَگر پڑھنے کے بعد بھی کوئی ڈاؤٹ رہ جاۓ تو موبائیل پر اُس کی رھنمائی کردی جاتی ہے۰ اس کتاب کو ایک گھنٹے میں پڑھکر سمجھا جا سکتا ہے۰ اسکو پڑھکر معلوم ہو جاتا ہے کہ کس سٹیج پر کیا کرناہے، آوٹ ڈورز کیسے کرنے ہیں، انٹر ویو کیسے دینا ہے، ڈریس کیسا ہو، سائیکالوجسٹ کے سٹوپٹ سوالات کے جوابات کیسے دینے ہیں۰غرض ہر چیز کی ٹو دی پوائینٹ رہنمائی ہے۰ انشا اللہ آپ نے اگر اس کتاب کے مطابق تیاری کی اور پرفارمنس دی تو آپ کوکامیابی کے لئیے کسی اکیڈمی یا کسی شخص کے پاس کبھی جانے کی ضرورت نہیں پڑےگی۰

Go Back